Prof. Ali Zahoor Mehdi
    Wisdom of Imam Aliؑ / حکمتِ امام علیؑ

    The Strongest Person Controls Anger, Not People

    غصے پر قابو پانا ہی اصل طاقت ہے: امام علیؑ کی ایک لازوال نصیحت

    By Prof. Ali Zahoor MehdiJun 30, 20265 min read
    The Strongest Person Controls Anger

    ہر انسان کو زندگی میں کبھی نہ کبھی غصہ ضرور آتا ہے۔ ناانصافی، بدتمیزی، اختلافِ رائے یا مایوسی جیسے حالات غصے کو جنم دے سکتے ہیں۔ غصہ بذاتِ خود ایک فطری جذبہ ہے، لیکن اس جذبے کو کس طرح قابو میں رکھا جائے، یہی انسان کے کردار اور عقل کی اصل پہچان ہے۔

    آج کے دور میں معمولی بات پر جھگڑے، رشتوں میں دوریاں، سوشل میڈیا پر تلخ گفتگو اور معاشرتی بے سکونی عام ہو چکی ہے۔ ایسے ماحول میں جذبات پر قابو پانا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

    امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے صدیوں پہلے ایک ایسا اصول بیان فرمایا جو آج بھی شخصیت سازی، جذباتی ذہانت (Emotional Intelligence) اور کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔

    امام علیؑ کا فرمان

    امام علیؑ نے فرمایا:

    "سب سے طاقتور انسان وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھے۔"

    حوالہ: غرر الحکم و درر الکلم، غصے اور ضبطِ نفس سے متعلق منتخب اقوال۔

    یہ مختصر مگر گہرا فرمان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل طاقت دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے میں ہے۔

    غصہ کیوں خطرناک ہے؟

    غصہ اکثر چند لمحوں کا ہوتا ہے، مگر اس کے نتائج برسوں تک انسان کا پیچھا کرتے ہیں۔

    ایک لمحے کی سخت بات... ایک جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ... یا ایک غصے میں اٹھایا گیا قدم...

    یہ سب ایسے زخم چھوڑ سکتے ہیں جنہیں بھرنے میں سالوں لگ جاتے ہیں۔

    کتنے ہی خاندان معمولی غصے کی وجہ سے ٹوٹ جاتے ہیں۔

    کتنی ہی دوستیاں ایک تلخ جملے کی نذر ہو جاتی ہیں۔

    کتنے ہی قابل لوگ صرف اس لیے اپنی عزت کھو بیٹھتے ہیں کہ وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔

    اسی لیے عقل مند انسان غصے کو اپنے فیصلوں کا حاکم نہیں بننے دیتا۔

    اصل طاقت جسم میں نہیں، نفس پر قابو میں ہے

    دنیا اکثر طاقت کو دولت، اختیار یا جسمانی قوت سے ناپتی ہے۔

    لیکن امام علیؑ طاقت کی ایک مختلف تعریف پیش کرتے ہیں۔

    جو شخص دوسروں کو شکست دے دے، وہ شاید طاقتور ہو۔

    لیکن جو شخص اپنے غصے، انا اور جذبات پر قابو پا لے، وہ حقیقی معنوں میں مضبوط انسان ہے۔

    کیونکہ سب سے مشکل جنگ باہر کی نہیں بلکہ اپنے نفس کے ساتھ ہوتی ہے۔

    قرآن مجید کیا سکھاتا ہے؟

    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    "اور وہ لوگ جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔"

    (سورۃ آل عمران 3:134)

    اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو عظیم صفات بیان فرمائی ہیں:

    • غصے پر قابو پانا۔
    • معاف کرنا۔

    یہ دونوں صفات ایک مضبوط اور باکردار انسان کی پہچان ہیں۔

    جذباتی ذہانت کیا ہے؟

    آج ماہرینِ نفسیات Emotional Intelligence کو کامیاب زندگی کی بنیادی مہارت قرار دیتے ہیں۔

    اس کا مطلب ہے:

    • اپنے جذبات کو پہچاننا۔
    • انہیں قابو میں رکھنا۔
    • دوسروں کے جذبات کو سمجھنا۔
    • ہر صورتحال میں سوچ سمجھ کر ردِعمل دینا۔

    حیرت کی بات یہ ہے کہ امام علیؑ نے صدیوں پہلے یہی تعلیم دی تھی کہ انسان کو اپنے جذبات کا غلام نہیں بلکہ ان کا مالک ہونا چاہیے۔

    غصے کے وقت کیا کریں؟

    چند لمحے خاموش رہیں

    غصے میں فوراً جواب دینا اکثر نقصان کا سبب بنتا ہے۔

    خاموشی کئی جھگڑوں کو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کر دیتی ہے۔

    گہرا سانس لیں

    چند گہرے سانس ذہن کو پرسکون کرتے ہیں اور سوچنے کی صلاحیت واپس لے آتے ہیں۔

    الفاظ کا انتخاب کریں

    جو لفظ زبان سے نکل جائے وہ واپس نہیں آتا۔

    اس لیے غصے کے وقت کم بولیں اور سوچ کر بولیں۔

    معاف کرنا سیکھیں

    معاف کرنا کمزوری نہیں بلکہ مضبوط شخصیت کی علامت ہے۔

    جو دوسروں کو معاف کرتا ہے، دراصل اپنے دل کو سکون دیتا ہے۔

    ہر بات کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں

    ہر اختلاف جیتنا ضروری نہیں ہوتا۔

    بعض اوقات خاموش رہنا سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔

    ایک اچھا رہنما کیسا ہوتا ہے؟

    حقیقی رہنما وہ نہیں جو لوگوں کو ڈرا کر چلائے۔

    بلکہ وہ ہے جو مشکل حالات میں بھی اپنے جذبات پر قابو رکھے۔

    گھر ہو یا دفتر...

    کاروبار ہو یا معاشرہ...

    لوگ ایسے انسان پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں جو پرسکون، انصاف پسند اور بردبار ہو۔

    امام علیؑ کی پوری زندگی اس کی بہترین مثال ہے۔

    آپؑ نے طاقت ہونے کے باوجود ہمیشہ عدل، صبر اور بردباری کا راستہ اختیار کیا۔

    آج کے دور میں اس نصیحت کی اہمیت

    ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہر شخص جلدی میں ہے۔

    سوشل میڈیا پر ایک تبصرہ... ٹریفک میں ایک معمولی غلطی... دفتر میں ایک اختلاف... یا گھر میں ایک چھوٹی سی بات...

    یہ سب غصے کو بھڑکا سکتے ہیں۔

    ایسے حالات میں امام علیؑ کی یہ نصیحت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کامیاب انسان وہ نہیں جو ہر بحث جیت جائے، بلکہ وہ ہے جو ہر حال میں اپنا کردار محفوظ رکھے۔

    نتیجہ

    غصہ آنا کمزوری نہیں، لیکن غصے کے تابع ہو جانا یقیناً کمزوری ہے۔

    امام علیؑ ہمیں سکھاتے ہیں کہ اصل طاقت دوسروں کو شکست دینے میں نہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھنے میں ہے۔

    جب انسان اپنے جذبات پر حکمرانی کرنا سیکھ لیتا ہے تو وہ بہتر والد، بہتر شریکِ حیات، بہتر دوست، بہتر رہنما اور بہتر مسلمان بن جاتا ہے۔

    آج اگر ہم صرف ایک عادت اپنا لیں کہ غصے کے وقت فوراً ردِعمل دینے کے بجائے چند لمحے رک کر سوچیں، تو ہماری زندگی، ہمارے تعلقات اور ہمارا معاشرہ پہلے سے کہیں زیادہ پُرسکون ہو سکتا ہے۔

    حوالہ جات

    1. غرر الحکم و درر الکلم، غصے اور ضبطِ نفس سے متعلق منتخب اقوال۔
    2. قرآن مجید، سورۃ آلِ عمران (3:134)۔
    3. نہج البلاغہ، مختلف خطبات اور اقوال جن میں صبر، ضبطِ نفس اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے۔

    غور و فکر کا سوال

    جب مجھے غصہ آتا ہے، کیا میں اپنے جذبات کا غلام بن جاتا ہوں، یا امام علیؑ کی تعلیم کے مطابق رک کر، سوچ کر اور حکمت کے ساتھ ردِعمل دیتا ہوں؟

    #امام علیؑ#غصہ#ضبطِ نفس#حکمت#کردار#جذباتی ذہانت
    اس مضمون کو شیئر کریں

    تبصرے (0)

    براہ کرم تبصروں کو باادب اور متعلقہ رکھیں۔

    تبصرہ کریں