Prof. Ali Zahoor Mehdi
    Karbala & Muharram / کربلا اور محرم

    Thirst, Loyalty, and the Character of Hazrat Abbas (AS)

    پیاس، وفا اور حضرت عباسؑ کا کردار: کربلا کا ایک عظیم سبق

    By Prof. Ali Zahoor MehdiJun 22, 20264 min read
    Thirst, Loyalty, and the Character of Hazrat Abbas

    محرم الحرام ہمیں صرف غم اور سوگ کی طرف متوجہ نہیں کرتا، بلکہ یہ ہمیں کردار، وفاداری، ایثار اور مقصد کے لیے قربانی کا درس بھی دیتا ہے۔ واقعۂ کربلا میں جہاں امام حسینؑ کی عظیم قربانی حق اور باطل کے درمیان ایک ابدی معیار قائم کرتی ہے، وہیں حضرت عباسؑ کا کردار وفا، غیرت، شجاعت اور خدمت کی بلند ترین مثال بن کر سامنے آتا ہے۔

    کربلا میں پیاس صرف جسمانی تکلیف کا نام نہیں تھی۔ یہ ایک اخلاقی امتحان بھی تھا۔ یہ امتحان تھا کہ انسان اپنی ضرورت، اپنی تکلیف اور اپنی خواہش کے باوجود حق، ذمہ داری اور وفاداری کو کہاں تک مقدم رکھتا ہے۔

    حضرت عباسؑ نے کربلا میں یہ دکھایا کہ سچی وفاداری دعووں سے نہیں، قربانی اور ایثار سے ثابت ہوتی ہے۔

    کربلا میں پیاس کا امتحان

    کربلا کے واقعات میں پانی کی بندش ایک نہایت دردناک پہلو ہے۔ امام حسینؑ کے خیموں میں بچے، خواتین اور اہلِ بیتؑ موجود تھے۔ پیاس بڑھ رہی تھی، حالات سخت ہو رہے تھے، اور آزمائش ہر لمحہ شدید تر ہوتی جا رہی تھی۔

    ایسے ماحول میں انسان کا صبر، ایمان اور کردار سب سے زیادہ آزمایا جاتا ہے۔ جب انسان کے سامنے اپنی ضرورت بھی ہو اور دوسروں کی ذمہ داری بھی، تو اصل شخصیت ظاہر ہوتی ہے۔

    حضرت عباسؑ کا کردار اسی مقام پر اپنی عظمت دکھاتا ہے۔ آپؑ صرف ایک بہادر مجاہد نہیں تھے، بلکہ وفاداری اور خدمت کا ایسا نمونہ تھے جس نے تاریخ کو ہمیشہ کے لیے متاثر کر دیا۔

    حضرت عباسؑ کی وفاداری

    حضرت عباسؑ کا نام آتے ہی ذہن میں وفا، ادب، حوصلہ اور ایثار کے معانی زندہ ہو جاتے ہیں۔ آپؑ نے امام حسینؑ کے ساتھ اپنی وفاداری کو صرف الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے ثابت کیا۔

    کربلا ہمیں بتاتی ہے کہ وفاداری کا اصل معیار مشکل وقت ہے۔ آسان حالات میں ساتھ دینا مشکل نہیں ہوتا۔ اصل امتحان تب ہوتا ہے جب جان، آرام، عزت، مفاد اور خواہش سب داؤ پر لگ جائیں۔

    حضرت عباسؑ نے اس امتحان میں دنیا کو یہ سبق دیا کہ سچی وفاداری وہ ہے جو اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر حق، امام وقت اور ذمہ داری کے ساتھ جڑی ہو۔

    ایثار کا مفہوم

    ایثار کا مطلب ہے کہ انسان اپنی ضرورت کے باوجود دوسرے کو ترجیح دے۔ یہ اخلاق کا بہت بلند مقام ہے۔ عام انسان اپنی ضرورت کو پہلے رکھتا ہے، لیکن بلند کردار انسان دوسروں کی ضرورت کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔

    حضرت عباسؑ کا کردار ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ انسان کی عظمت صرف اس کی طاقت میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ وہ اپنی طاقت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔

    اگر طاقت خدمت کے لیے ہو، تو وہ عظمت بن جاتی ہے۔ اگر طاقت حق کے لیے ہو، تو وہ عبادت بن جاتی ہے۔ اگر طاقت مظلوم کی مدد کے لیے ہو، تو وہ کردار کی بلندی بن جاتی ہے۔

    قرآن مجید کی روشنی میں ایثار

    قرآن مجید اہلِ ایمان کی ایک عظیم صفت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

    "اور وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ خود انہیں ضرورت ہو۔" (سورۃ الحشر، 59:9)

    یہ آیت ایثار کی روح کو واضح کرتی ہے۔ ایک مومن کا کردار صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہوتا۔ وہ دوسروں کی تکلیف محسوس کرتا ہے، ان کی ضرورت کو سمجھتا ہے اور اپنی سہولت سے پہلے ذمہ داری کو دیکھتا ہے۔

    کربلا میں یہی ایثار اپنی بلند ترین صورت میں نظر آتا ہے۔ حضرت عباسؑ کا کردار اس قرآنی اصول کی عملی تصویر محسوس ہوتا ہے۔

    وفا اور ذمہ داری

    وفاداری صرف جذبات کا نام نہیں۔ یہ ذمہ داری کا نام ہے۔ جو شخص صرف محبت کا دعویٰ کرے مگر وقت آنے پر ذمہ داری نہ نبھائے، اس کی وفاداری ادھوری ہے۔

    حضرت عباسؑ نے ہمیں بتایا کہ وفا کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے عہد، اپنے امام، اپنے اصول اور اپنے مقصد کے ساتھ آخر تک کھڑا رہے۔

    آج کے زمانے میں بھی وفاداری کی ضرورت ہر جگہ ہے:

    • خاندان میں
    • دوستی میں
    • معاشرے میں
    • دینی زندگی میں
    • انسانی تعلقات میں
    • حق اور انصاف کے معاملات میں

    لیکن افسوس یہ ہے کہ اکثر اوقات وفاداری مفاد تک محدود ہو جاتی ہے۔ جب فائدہ ہو تو ساتھ، جب نقصان کا امکان ہو تو خاموشی یا کنارہ کشی۔ کربلا اس طرزِ عمل کو چیلنج کرتی ہے۔

    حضرت عباسؑ سے آج کا انسان کیا سیکھے؟

    حضرت عباسؑ کا ذکر صرف عقیدت کے لیے نہیں، تربیت کے لیے بھی ہے۔ اگر ہم ان کے کردار کو صرف تاریخ کا حصہ سمجھ کر چھوڑ دیں تو ہم کربلا کے پیغام کو محدود کر دیں گے۔

    آج حضرت عباسؑ سے ہم یہ سیکھ سکتے ہیں:

    1. وفاداری عمل سے ثابت ہوتی ہے

    صرف محبت کے الفاظ کافی نہیں۔ اصل وفاداری مشکل وقت میں ظاہر ہوتی ہے۔

    2. طاقت خدمت کے لیے ہونی چاہیے

    اگر اللہ نے انسان کو طاقت، علم، مقام یا صلاحیت دی ہے تو اسے دوسروں کی مدد کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

    3. ذمہ داری خواہش سے بڑی ہوتی ہے

    کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ کبھی کبھی اپنی خواہش، آرام اور ضرورت کو ذمہ داری کے لیے قربان کرنا پڑتا ہے۔

    4. حق کے ساتھ کھڑے رہنا عظمت ہے

    لوگ کم ہوں یا حالات سخت ہوں، حق کا ساتھ چھوڑنا مؤمن کا طریقہ نہیں۔

    5. ایثار انسان کو بلند کرتا ہے

    جو انسان دوسروں کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے، وہ اپنی ذات سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔

    کربلا کا پیغام اور ہماری زندگی

    ہم سب اپنی زندگی میں کسی نہ کسی سطح پر امتحان دیتے ہیں۔ کبھی رشتوں میں وفاداری کا امتحان، کبھی اصولوں کا، کبھی ذمہ داری کا، اور کبھی قربانی کا۔

    سوال یہ ہے کہ جب ہمارا مفاد اور ہماری وفاداری آمنے سامنے آ جائیں تو ہم کس کو ترجیح دیتے ہیں؟

    کربلا کا پیغام یہ ہے کہ کردار وہی ہے جو مشکل وقت میں بھی حق اور وفا سے پیچھے نہ ہٹے۔

    حضرت عباسؑ کی عظمت اسی لیے ہے کہ انہوں نے وفاداری کو صرف ایک جذبہ نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے عمل، قربانی اور ایثار کی شکل دی۔

    نتیجہ

    کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ وفا، پیاس سے بھی بڑی ہوتی ہے۔ پیاس جسم کی آزمائش تھی، مگر وفا روح کی عظمت تھی۔ حضرت عباسؑ نے دنیا کو یہ بتایا کہ انسان کی اصل بلندی اس کی ذات، خواہشات یا ضروریات میں نہیں، بلکہ اس کے مقصد، ذمہ داری اور وفاداری میں ہے۔

    محرم کے ان دنوں میں ہمیں صرف کربلا کو یاد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اپنے کردار کو بھی کربلا کے آئینے میں دیکھنا چاہیے۔

    کیا ہماری وفاداری صرف باتوں میں ہے؟ کیا ہماری خدمت صرف آسان حالات تک محدود ہے؟ کیا ہم اپنی ذمہ داری کو اپنی سہولت سے اوپر رکھتے ہیں؟

    اگر ہم ان سوالات پر سنجیدگی سے غور کریں تو کربلا ہمارے لیے صرف تاریخ نہیں رہے گی، بلکہ زندگی کا راستہ بن جائے گی۔

    غور و فکر کا سوال

    کیا میں اپنی زندگی میں وفاداری، ایثار اور ذمہ داری کو اپنی سہولت اور مفاد سے اوپر رکھنے کی کوشش کرتا ہوں؟

    #وفاداری#قربانی#حضرت عباسؑ#کربلا#کردار
    اس مضمون کو شیئر کریں

    تبصرے (0)

    براہ کرم تبصروں کو باادب اور متعلقہ رکھیں۔

    تبصرہ کریں