Prof. Ali Zahoor Mehdi
    Islamic Reflection / اسلامی غور و فکر

    The Best Among You Is the One Who Is Best to Others

    بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیے بہترین ہو: اخلاق اور تعلقات پر ایک اسلامی سبق

    By Prof. Ali Zahoor MehdiJul 3, 20265 min read
    The Best Among You Is the One Who Is Best to Others

    ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس کا احترام کریں، اس سے محبت کریں اور اسے اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔ ہم تعلیم حاصل کرتے ہیں، محنت کرتے ہیں، دولت کماتے ہیں اور زندگی میں کامیاب ہونے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن آخرکار لوگوں کے دلوں میں ہماری جگہ ہمارے کردار اور دوسروں کے ساتھ ہمارے رویے سے بنتی ہے۔

    ایک مسکراہٹ، ایک نرم لہجہ، ایک سچا مشورہ، ایک معاف کر دینے والا دل یا ضرورت مند کی مدد، یہ وہ اعمال ہیں جو انسان کو حقیقی عزت عطا کرتے ہیں۔

    اسلام صرف عبادات کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ بہترین اخلاق اور اچھے تعلقات کو بھی ایمان کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔ قرآنِ مجید اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات ہمیں بار بار یاد دلاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ایک اہم راستہ اس کی مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک ہے۔

    قرآنِ مجید کی تعلیم

    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    "بے شک اللہ انصاف، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے، اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے منع کرتا ہے۔"

    (سورۃ النحل، 16:90)

    یہ آیت قرآنِ مجید کی جامع ترین اخلاقی تعلیمات میں شمار ہوتی ہے۔

    اللہ تعالیٰ ہمیں حکم دیتا ہے کہ:

    • انصاف کریں۔
    • دوسروں کے ساتھ احسان کریں۔
    • اپنے رشتہ داروں کا خیال رکھیں۔
    • ظلم اور زیادتی سے بچیں۔

    یعنی ایک کامیاب مسلمان صرف عبادت گزار نہیں ہوتا بلکہ انصاف پسند، رحم دل اور دوسروں کے لیے فائدہ مند بھی ہوتا ہے۔

    ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    "اور لوگوں سے بھلی بات کہو۔"

    (سورۃ البقرہ، 2:83)

    بعض اوقات ایک نرم اور محبت بھرا جملہ کسی ٹوٹے ہوئے دل کو جوڑ دیتا ہے، جبکہ ایک سخت لفظ برسوں کے تعلق کو ختم کر سکتا ہے۔

    امام علیؑ کی سنہری نصیحت

    امیرالمؤمنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں:

    "لوگوں کے ساتھ اس طرح زندگی گزارو کہ اگر تم دنیا سے چلے جاؤ تو وہ تم پر روئیں، اور اگر زندہ رہو تو تمہاری ملاقات کے مشتاق رہیں۔"

    حوالہ: نہج البلاغہ، حکمت 10 (مختلف نسخوں میں نمبر مختلف ہو سکتا ہے۔)

    یہ مختصر مگر گہرا فرمان ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اس کے مال، شہرت یا عہدے میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ اس کی موجودگی دوسروں کے لیے راحت اور سکون کا سبب بنے۔

    ایسا کردار اختیار کریں کہ لوگ آپ کے ساتھ وقت گزار کر خوش ہوں، نہ کہ آپ سے دور رہنے کی کوشش کریں۔

    امام جعفر صادقؑ کی تعلیم

    امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:

    "اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے محبوب انسان وہ ہے جو اس کے بندوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔"

    حوالہ: الکافی، شیخ کلینی، کتاب الایمان والکفر۔

    یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت صرف نماز، روزہ اور دعا تک محدود نہیں۔

    اگر آپ:

    • کسی پریشان شخص کی مدد کریں،
    • کسی غمزدہ انسان کی بات سن لیں،
    • کسی طالب علم کی رہنمائی کریں،
    • اپنے والدین کی خدمت کریں،
    • کسی محتاج کی ضرورت پوری کریں،

    تو یہ سب بھی اللہ کی رضا کے لیے کی گئی عبادت ہیں۔

    اچھا اخلاق کبھی ضائع نہیں جاتا

    بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم ہر کسی کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو لوگ ہمیں کمزور سمجھیں گے۔

    اسلام اس سوچ کی اصلاح کرتا ہے۔

    اچھا اخلاق کمزوری نہیں بلکہ مضبوط شخصیت کی علامت ہے۔

    ہو سکتا ہے لوگ آپ کی نیکی کو بھول جائیں، لیکن اللہ تعالیٰ ہر نیکی کو محفوظ رکھتا ہے۔

    ہر مسکراہٹ... ہر معافی... ہر نرم گفتگو... ہر مدد...

    اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیمتی ہے۔

    سب سے قیمتی سرمایہ تعلقات ہیں

    آج بہت سے لوگ دولت جمع کرنے میں پوری زندگی لگا دیتے ہیں، لیکن اپنے تعلقات کو وقت نہیں دیتے۔

    دولت آرام خرید سکتی ہے۔ محبت نہیں۔

    عہدہ اختیار دے سکتا ہے۔ اعتماد نہیں۔

    اعتماد صرف کردار سے حاصل ہوتا ہے۔

    وعدہ پورا کرنے سے... سچ بولنے سے... دوسروں کی عزت کرنے سے... اور مشکل وقت میں ساتھ دینے سے...

    یہی وہ خوبیاں ہیں جو مضبوط تعلقات کی بنیاد بنتی ہیں۔

    جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟

    مشہور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر جان گوٹمین نے کئی دہائیوں کی تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ مضبوط تعلقات بڑی بڑی قربانیوں سے نہیں بلکہ روزمرہ کے چھوٹے مثبت رویوں سے بنتے ہیں۔

    اسی طرح اسٹیفن آر کووی اپنی معروف کتاب The 7 Habits of Highly Effective People میں لکھتے ہیں کہ اعتماد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان کے الفاظ اور اعمال ایک جیسے ہوں۔

    یہی تعلیم اسلام نے چودہ سو سال پہلے دی تھی۔

    حسنِ اخلاق اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اعتماد مضبوط تعلقات پیدا کرتا ہے۔ اور مضبوط تعلقات ایک مضبوط معاشرہ بناتے ہیں۔

    دوسروں کے لیے بہتر انسان کیسے بنیں؟

    پہلے سنیں، پھر بولیں

    اکثر لوگوں کو مشورے سے زیادہ ایک اچھا سننے والا چاہیے ہوتا ہے۔

    جلد معاف کریں

    دل میں نفرت پالنا سب سے پہلے اپنے دل کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    معاف کرنا دل کو سکون دیتا ہے۔

    احترام سے گفتگو کریں

    اختلاف ہونا فطری بات ہے۔

    بے ادبی اختیار کرنا ہمارا انتخاب ہوتا ہے۔

    اچھا کردار اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھتا ہے۔

    وعدہ پورا کریں

    اعتماد ایک دن میں نہیں بنتا۔

    یہ ہر پورے کیے گئے وعدے سے مضبوط ہوتا ہے۔

    بغیر شہرت کی خواہش کے مدد کریں

    سب سے خوبصورت نیکیاں وہ ہوتی ہیں جنہیں صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔

    ایسا کردار چھوڑیں جو ہمیشہ زندہ رہے

    تاریخ بہت سے لوگوں کو ان کی دولت یا طاقت کی وجہ سے یاد رکھتی ہے، لیکن عظیم انسانوں کو ان کے اخلاق کی وجہ سے ہمیشہ عزت ملتی ہے۔

    امام علیؑ آج بھی دنیا بھر میں صرف اپنی بہادری کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے عدل، رحم، عاجزی، سخاوت اور انسان دوستی کی وجہ سے یاد کیے جاتے ہیں۔

    ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کی اصل عظمت اس کے پاس موجود چیزوں میں نہیں بلکہ ان دلوں میں ہوتی ہے جنہیں وہ اپنی محبت اور کردار سے جیت لیتا ہے۔

    نتیجہ

    ہر دن ہمارے پاس ایک موقع ہوتا ہے کہ ہم کسی کی زندگی آسان بنا دیں۔

    ایک نرم لفظ... ایک سچی دعا... ایک معاف کر دینے والا دل... ایک مدد کرنے والا ہاتھ...

    یہ سب ایسے اعمال ہیں جن کی قیمت شاید دنیا نہ جانے، مگر اللہ تعالیٰ ضرور جانتا ہے۔

    قرآن ہمیں حسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے۔ اہلِ بیتؑ ہمیں اس پر عمل کر کے دکھاتے ہیں۔ اور جدید تحقیق بھی یہی ثابت کرتی ہے کہ بہترین تعلقات اچھے اخلاق سے بنتے ہیں۔

    لہٰذا کوشش کریں کہ جب لوگ آپ کو یاد کریں تو انہیں آپ کا اخلاق، آپ کی دیانت، آپ کی شفقت اور آپ کی خدمت یاد آئے۔

    کیونکہ حقیقی کامیابی یہ نہیں کہ لوگ آپ کو جانتے ہوں، بلکہ یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے لوگوں کی زندگی بہتر ہوئی ہو۔

    حوالہ جات

    1. قرآن مجید، سورۃ النحل (16:90)
    2. قرآن مجید، سورۃ البقرہ (2:83)
    3. نہج البلاغہ، حکمت 10
    4. الکافی، شیخ کلینی، کتاب الایمان والکفر
    5. Stephen R. Covey, The 7 Habits of Highly Effective People
    6. John Gottman, The Seven Principles for Making Marriage Work

    غور و فکر کا سوال

    اگر لوگ مجھے میرے اخلاق اور دوسروں کے ساتھ میرے رویے کی بنیاد پر یاد کریں، تو کیا وہ میرے بارے میں محبت، دیانت، صبر اور شفقت کی گواہی دیں گے، یا مجھے اپنے کردار میں مزید بہتری کی ضرورت ہے؟

    #اخلاق#تعلقات#اسلام#کردار
    اس مضمون کو شیئر کریں

    تبصرے (0)

    براہ کرم تبصروں کو باادب اور متعلقہ رکھیں۔

    تبصرہ کریں