Gratitude Turns What You Have Into Enough
شکر وہ نعمت ہے جو موجود کو بھی کافی بنا دیتی ہے
آج کی دنیا میں اکثر لوگوں کی نظر اُن چیزوں پر ہوتی ہے جو اُن کے پاس نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کی کامیابیاں، خوبصورت گھر، مہنگی گاڑیاں اور پُرآسائش زندگی دیکھ کر انسان اپنی نعمتوں کو بھول جاتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دل میں بے چینی، ناشکری اور ہمیشہ "مزید" حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوتی رہتی ہے۔
اسلام ہمیں ایک مختلف سوچ عطا کرتا ہے۔
حقیقی خوشی ہر خواہش پوری ہونے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو پہچاننے اور ان پر شکر ادا کرنے میں ہے۔
شکر صرف زبان سے "الحمد للہ" کہہ دینے کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسا طرزِ زندگی ہے جس میں انسان ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو پہچانتا، ان کی قدر کرتا اور انہیں اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرتا ہے۔
قرآنِ مجید بار بار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شکر صرف اللہ کو پسند نہیں، بلکہ وہ نعمتوں میں اضافے کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔
شکر کا حقیقی مفہوم
اسلام میں شکر کے تین درجے ہیں۔
دل کا شکر یہ یقین رکھنا کہ ہر نعمت صرف اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، نہ کہ صرف ہماری محنت کا نتیجہ۔
زبان کا شکر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنا اور دل سے الحمد للہ کہنا۔
عمل کا شکر اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کی رضا کے مطابق استعمال کرنا۔
اگر اللہ نے علم دیا ہے تو اسے دوسروں کے فائدے کے لیے استعمال کریں۔
اگر مال دیا ہے تو اس میں سے مستحقین کا حق ادا کریں۔
اگر صحت دی ہے تو اسے نیکی کے کاموں میں لگائیں۔
یہی مکمل شکر ہے۔
قرآنِ مجید کا وعدہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اور جب تمہارے رب نے اعلان فرمایا کہ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں ضرور تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب سخت ہے۔"
(سورۃ ابراہیم، 14:7)
یہ قرآنِ مجید کے سب سے امید افزا وعدوں میں سے ایک ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ صرف مال میں اضافہ کرے گا۔
وہ نعمت کسی بھی صورت میں ہو سکتی ہے۔
ایمان میں اضافہ...
رزق میں برکت...
علم میں اضافہ...
ذہنی سکون...
اچھی اولاد...
اچھے تعلقات...
یا دل کا اطمینان۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی ضرورت کے مطابق بہترین اضافہ عطا فرماتا ہے۔
اللہ کو یاد کرو اور شکر گزار بنو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"پس تم میرا ذکر کرو، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔"
(سورۃ البقرہ، 2:152)
جتنا انسان اللہ کو یاد کرتا ہے، اتنا ہی اسے اپنی نعمتوں کا احساس ہوتا ہے۔
اور جتنا نعمتوں کا احساس بڑھتا ہے، اتنا ہی دل میں سکون پیدا ہوتا ہے۔
شکر انسان کو اللہ کے قریب بھی کرتا ہے اور دل کو مطمئن بھی۔
امام علیؑ کی تعلیم
امیرالمؤمنین حضرت علیؑ فرماتے ہیں:
"ہر نعمت پر، خواہ وہ کتنی ہی چھوٹی کیوں نہ ہو، شکر ادا کرنا واجب ہے۔"
حوالہ: غرر الحکم و درر الکلم، باب الشکر۔
ہم روزانہ بے شمار ایسی نعمتیں استعمال کرتے ہیں جن پر ہماری نظر ہی نہیں جاتی۔
سانس لینا...
چلنا پھرنا...
صحت...
والدین...
اولاد...
دوست...
پینے کا صاف پانی...
پرسکون نیند...
یہ سب اللہ کی ایسی نعمتیں ہیں جن کی اصل قدر اکثر ہمیں اُس وقت معلوم ہوتی ہے جب وہ ہمارے پاس نہیں رہتیں۔
امام جعفر صادقؑ کی تعلیم
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:
"جو نعمت عطا کرنے والے کا شکر ادا کرتا ہے، اس نے حقیقی شکر ادا کیا، خواہ نعمت کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو۔"
حوالہ: الکافی، شیخ کلینی، کتاب الایمان والکفر، باب الشکر۔
اللہ تعالیٰ نعمت کی مقدار نہیں دیکھتا، بلکہ شکر ادا کرنے والے کے دل کا اخلاص دیکھتا ہے۔
ایک مومن خوشحالی میں بھی شکر گزار رہتا ہے اور آزمائش میں بھی اللہ کی حکمت پر یقین رکھتا ہے۔
شکر کا مطلب ترقی چھوڑ دینا نہیں
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم شکر گزار بن جائیں تو پھر ترقی کی خواہش نہیں رکھنی چاہیے۔
اسلام ایسا نہیں سکھاتا۔
ایک طالب علم اچھے نمبروں کی کوشش بھی کرے اور موجودہ علم پر اللہ کا شکر بھی ادا کرے۔
ایک تاجر کاروبار بڑھانے کی محنت بھی کرے اور موجودہ رزق پر بھی اللہ کا شکر گزار رہے۔
شکر انسان کو سستی نہیں سکھاتا۔
بلکہ لالچ سے بچاتا ہے۔
جدید تحقیق کیا کہتی ہے؟
مثبت نفسیات (Positive Psychology) کے معروف محقق ڈاکٹر رابرٹ ایمنز نے اپنی تحقیق میں ثابت کیا کہ شکر گزار لوگ:
- زیادہ خوش رہتے ہیں۔
- ذہنی دباؤ کم محسوس کرتے ہیں۔
- بہتر نیند سوتے ہیں۔
- مضبوط تعلقات قائم کرتے ہیں۔
- زندگی کے بارے میں زیادہ پُرامید ہوتے ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر مارٹن سیلیگ مین نے اپنی تحقیقات میں بتایا کہ شکر گزاری انسان کی ذہنی صحت، امید اور جذباتی استحکام کو بہتر بناتی ہے۔
یہ وہی حقیقت ہے جسے اسلام نے چودہ سو سال پہلے سکھا دیا تھا۔
شکر گزار بننے کی پانچ آسان عادتیں
دن کا آغاز "الحمد للہ" سے کریں صبح آنکھ کھلتے ہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ایک نئی زندگی عطا کی۔
چھوٹی نعمتوں کو بھی محسوس کریں صاف پانی...
ہوا...
کھانا...
گھر...
خاندان...
یہ سب وہ نعمتیں ہیں جن کے لیے دنیا میں لاکھوں لوگ ترس رہے ہیں۔
لوگوں کا شکریہ ادا کریں جو انسان لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا، وہ حقیقت میں اللہ کا بھی مکمل شکر ادا نہیں کر سکتا۔
والدین، اساتذہ، دوستوں اور ہر خیر خواہ کا شکریہ ادا کرنے کی عادت اپنائیں۔
نعمتوں کا صحیح استعمال کریں اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت ایک امانت ہے۔
اسے نیکی، خدمت اور خیر کے کاموں میں استعمال کریں۔
روزانہ نعمتیں لکھیں ہر رات سونے سے پہلے تین ایسی نعمتیں لکھیں جن پر آپ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
یہ عادت آہستہ آہستہ انسان کی سوچ بدل دیتی ہے۔
مشکل حالات میں بھی شکر
شکر کا مطلب یہ نہیں کہ زندگی میں کبھی مشکل نہیں آئے گی۔
بلکہ شکر کا مطلب یہ ہے کہ انسان آزمائش میں بھی اللہ کی حکمت پر یقین رکھے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن مشکلات کو ہم برا سمجھتے ہیں، بعد میں وہی ہماری سب سے بڑی بھلائی ثابت ہوتی ہیں۔
ایک مومن ہر حال میں اللہ پر اعتماد رکھتا ہے۔
نتیجہ
شکر صرف زبان کے چند الفاظ نہیں بلکہ ایک ایسا طرزِ فکر ہے جو پوری زندگی بدل دیتا ہے۔
جب انسان اپنی توجہ محرومیوں سے ہٹا کر اللہ کی نعمتوں پر مرکوز کرتا ہے تو اس کے دل میں سکون، اطمینان اور امید پیدا ہوتی ہے۔
قرآن ہمیں یقین دلاتا ہے کہ شکر نعمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔
اہلِ بیتؑ ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہر نعمت، خواہ کتنی ہی چھوٹی ہو، اللہ کی رحمت کی نشانی ہے۔
اور جدید تحقیق بھی یہی ثابت کرتی ہے کہ شکر گزار لوگ زیادہ خوش، زیادہ پُرسکون اور زیادہ کامیاب زندگی گزارتے ہیں۔
لہٰذا آج ایک لمحہ رکیں...
اپنے اردگرد موجود نعمتوں کو دیکھیں...
دل سے الحمد للہ کہیں...
ممکن ہے آپ کو احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلے ہی بہت کچھ عطا کر رکھا ہے۔
حوالہ جات
- قرآن مجید، سورۃ ابراہیم (14:7)
- قرآن مجید، سورۃ البقرہ (2:152)
- غرر الحکم و درر الکلم، باب الشکر
- الکافی، شیخ کلینی، کتاب الایمان والکفر، باب الشکر
- Robert Emmons, Thanks!: How the New Science of Gratitude Can Make You Happier
- Martin E. P. Seligman, Flourish
غور و فکر کا سوال
کیا میں اپنی زندگی میں اُن نعمتوں کو زیادہ دیکھتا ہوں جو میرے پاس نہیں ہیں، یا اُن بے شمار نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں جو اس نے پہلے ہی مجھے عطا کر رکھی ہیں؟
تبصرے (0)
براہ کرم تبصروں کو باادب اور متعلقہ رکھیں۔




