Prof. Ali Zahoor Mehdi
    Karbala & Muharram / کربلا اور محرم

    When Silence Becomes a Crime

    جب خاموشی جرم بن جائے

    By Prof. Ali Zahoor MehdiJun 18, 20264 min read
    When Silence Becomes a Crime

    محرم صرف ایک تاریخی واقعے کو یاد کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے کردار، سوچ اور ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔ واقعۂ کربلا کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ بعض اوقات خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔

    عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ظلم صرف وہی کرتا ہے جو ظلم میں براہِ راست شریک ہو، لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کو طاقت صرف ظالموں سے نہیں ملتی بلکہ ان لوگوں سے بھی ملتی ہے جو حق کو پہچاننے کے باوجود خاموش رہتے ہیں۔

    کربلا کا پیغام یہی ہے کہ حق کو جان لینا کافی نہیں، بلکہ حق کا ساتھ دینا بھی ضروری ہے۔

    کربلا کا ایک اہم سبق

    امام حسینؑ نے اقتدار یا دنیاوی مفادات کے لیے قیام نہیں کیا تھا۔ آپؑ نے اپنے مقصد کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ امت کی اصلاح اور اپنے نانا حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات کو زندہ کرنے کے لیے نکلے ہیں۔

    اس دور میں بہت سے لوگ امام حسینؑ کے مقام اور فضیلت سے واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ حق کس کے ساتھ ہے، لیکن سب لوگ حق کے ساتھ کھڑے نہ ہو سکے۔

    کچھ لوگ خوف کا شکار تھے۔

    کچھ دنیاوی مفادات میں گرفتار تھے۔

    اور کچھ نے خاموش رہنے کو ہی محفوظ راستہ سمجھ لیا۔

    تاریخ نے ہمیں یہ سبق دیا کہ جب حق اور باطل آمنے سامنے ہوں تو غیر جانبداری ہمیشہ دانشمندی نہیں ہوتی۔

    قرآن مجید کی تعلیم

    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    "اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو۔"

    (سورۃ المائدہ، آیت 2)

    یہ آیت صرف نیکی کرنے کا حکم نہیں دیتی بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ انسان کو ظلم اور زیادتی کے نظام کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔

    بعض اوقات انسان برا کام خود نہیں کرتا، لیکن اپنی خاموشی یا بے حسی کے ذریعے غلط کام کو جاری رہنے دیتا ہے۔ اسلام ہمیں اس رویے سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔

    خاموشی کیوں خطرناک ہے؟

    خاموشی ہمیشہ حکمت نہیں ہوتی۔

    کبھی خاموشی خوف کی وجہ سے ہوتی ہے۔

    کبھی مفاد کی وجہ سے۔

    اور کبھی اس سوچ کی وجہ سے کہ "مجھے کیا فرق پڑتا ہے۔"

    لیکن جب معاشرے میں ناانصافی عام ہو جائے اور اہلِ حق خاموش رہیں تو باطل مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔

    اسی لیے تاریخ کے بڑے انقلابات چند ایسے لوگوں نے برپا کیے جو حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے تھے۔

    آج کے دور میں کربلا کا پیغام

    کربلا صرف ایک تاریخی میدان کا نام نہیں۔ آج بھی ہر انسان اپنی زندگی میں مختلف آزمائشوں کا سامنا کرتا ہے۔

    کبھی سچ بولنے اور خاموش رہنے کے درمیان انتخاب کرنا پڑتا ہے۔

    کبھی انصاف اور مفاد کے درمیان فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

    کبھی کسی مظلوم کا ساتھ دینے یا خاموش رہنے کا سوال سامنے آتا ہے۔

    یہی وہ مقامات ہیں جہاں کربلا کا پیغام زندہ ہو جاتا ہے۔

    اگر ہم حق کو جانتے ہوئے بھی صرف اپنی آسانی اور مفاد کی خاطر خاموش رہ جائیں تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہمارا رویہ ہمیں کس طرف لے جا رہا ہے۔

    حکمت اور اعتدال کی ضرورت

    یہ بھی ضروری ہے کہ حق کا ساتھ دیتے وقت حکمت کو فراموش نہ کیا جائے۔

    اسلام جذباتی ردِعمل کے بجائے دانشمندانہ رویے کی تعلیم دیتا ہے۔

    ہر بات کو سمجھداری، اچھے اخلاق اور مناسب طریقے سے بیان کرنا چاہیے۔ مقصد فساد پیدا کرنا نہیں بلکہ اصلاح اور بہتری لانا ہے۔

    اسی لیے مؤمن کی پہچان صرف اس کی جرات نہیں بلکہ اس کی حکمت بھی ہوتی ہے۔

    عملی اسباق

    واقعۂ کربلا سے ہم چند اہم اسباق حاصل کرتے ہیں:

    • حق کو پہچاننے کی کوشش کریں۔
    • ظلم اور ناانصافی کو معمول نہ سمجھیں۔
    • اپنے ضمیر کو زندہ رکھیں۔
    • سچ بات کہنے کا حوصلہ پیدا کریں۔
    • اپنی ذات، خاندان اور معاشرے میں انصاف کو فروغ دیں۔
    • حق کا ساتھ دیتے وقت حکمت اور اخلاق کو اختیار کریں۔

    نتیجہ

    محرم ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بعض اوقات خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ جب حق واضح ہو جائے اور باطل سامنے آ جائے تو انسان کا امتحان شروع ہوتا ہے۔

    امام حسینؑ کا پیغام صرف چودہ سو سال پہلے کے لوگوں کے لیے نہیں تھا، بلکہ آج بھی ہر اس شخص کے لیے ہے جو حق، انصاف اور انسانی وقار پر یقین رکھتا ہے۔

    کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی کی حمایت ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، لیکن یہی راستہ انسان کو عزت اور کامیابی عطا کرتا ہے۔

    غور و فکر کا سوال

    کیا میری زندگی میں کوئی ایسا موقع ہے جہاں میں حق کو جانتے ہوئے بھی خاموش رہ جاتا ہوں؟

    #محرم#کربلا#خاموشی#انصاف#حق#حوصلہ
    اس مضمون کو شیئر کریں

    تبصرے (0)

    براہ کرم تبصروں کو باادب اور متعلقہ رکھیں۔

    تبصرہ کریں